لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
18 ستمبر 2025

رحمتوں کی گھٹا چھائی رمضان میں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

رحمتوں کی گھٹا چھائی رمضان میں

کاوش فکر : شمش الدین شمش علیمی

رحمتوں کی گھٹا چھائی رمضان میں

رحمتوں کی گھٹا چھائی رمضان میں

پٹ گئی جرم کی کھائی رمضان میں کوہِ عصیاں ہوا رائی رمضان میں

کثرتِ حسنِ اعمال سے تو بڑھا ! روےِ ہستی کی رعنائی رمضان میں

روحِ ایماں کو سجدوں سے تازہ کرو ہوگی رب سے شناسائی رمضان میں

ٹوٹ جائے گا پاپوں کا تیرے گھڑا ہوگی جب فیض فرمائی رمضان میں

کھینچتی ہے مسلماں کو اپنی طرف رحمتِ رب کی شہنائی رمضان میں

فرحت انگیزیِ لطفِ صوم و صلوٰۃ مژدۂِ خلد ہے لائی رمضان میں

خیر و برکت کا ہونے لگا ہے نزول رحمتوں کی گھٹا چھائی رمضان میں

کیجیے راہِ توبہ کی شمسِؔ حزیں! ہر گھڑی جادہ پیمائی رمضان میں

✍️ شمسؔ علؔیمی (سدھارتھ نگری)

 

پٹ گئی جرم کی کھائی رمضان میں کوہِ عصیاں ہوا رائی رمضان میں

کثرتِ حسنِ اعمال سے تو بڑھا ! روےِ ہستی کی رعنائی رمضان میں

روحِ ایماں کو سجدوں سے تازہ کرو ہوگی رب سے شناسائی رمضان میں

ٹوٹ جائے گا پاپوں کا تیرے گھڑا ہوگی جب فیض فرمائی رمضان میں

کھینچتی ہے مسلماں کو اپنی طرف رحمتِ رب کی شہنائی رمضان میں

فرحت انگیزیِ لطفِ صوم و صلوٰۃ مژدۂِ خلد ہے لائی رمضان میں

کیجیے راہِ توبہ کی شمسِؔ حزیں! ہر گھڑی جادہ پیمائی رمضان می

اٗپ اپنے نعت و منقبت کے اشعار اس نمبر پر بھیج کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں                                 9324401803 سحری کا بیان اور فضیلت  

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-2801 تصدیق شدہ
ٹیگز:
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

دیگر شرعی فتاویٰ