دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2745
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
امام تخت پر ہے اور بعض مقتدی نیچے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,261
سوال (Question):
امام تخت پر ہے اور بعض مقتدی نیچے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام تخت پر ہے اور بعض مقتدی نیچے تو نماز کا کیا حکم ہے؟امام اوپر اور مقتدی نیچے تو نماز کا کیا حکم ہے
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ حضور مفتی نظام الدین قادری مصباحی صاحب قبلہ بعدہ عرض ہے کہ زید ایک کمرے میں چند احباب کے ساتھ بیٹھا تھا نماز کا وقت ہوا اور اس کمرے میں ایک تخت ہے جس پر زید نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہوا ۔ اسکے پیچھے دو چند لوگ تخت پر ہی اقتدا کرلیے ۔ اور کچھ لوگ تخت کے نیچے ہی اقتدا کر لیے تو ایسی صورت میں جو لوگ تخت کے نیچے کھڑے ہو کر زید کی اقتدا کیے ان کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ المستفتی سید بختیار احمد علیمی جھونسی شریف آلہ باد الجواب:امام اوپر اور مقتدی نیچے صورتِ مسئولہ میں بلا کراہت نماز درست ہے ۔ ہاں!اگر امام تنہا تخت پر ہوتا اور سارے مقتدی نیچے ہوتےتو اس صورت میں بلندی کے نمایاں اور ممتاز ہونے کی وجہ سے نماز مکروہ ہوتی، لیکن چوں کہ امام کے ساتھ تخت پر کچھ مقتدی بھی ہیں اس لیے نماز بلا کراہت درست ہے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ مکروہات تنزیہی کے بیان میں تحریر فرماتے ییں: امام کا تنہا بلند جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے، بلندی کی مقدار یہ ہے کہ دیکھنے میں اس کی اونچائی ظاہر ممتاز ہو ۔ پھر یہ بلندی اگر قلیل ہو تو کراہت تنزیہ ورنہ ظاہر تحریم۔ امام نیچے ہو اور مقتدی بلند جگہ پر، یہ بھی مکروہ و خلافِ سُنت ہے “(بہار شریعت حصہ ٣ص ٦٣۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamdashahi Basti
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل
فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat