لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال : کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اسے کیا سمجھنا چاہیے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ دعا اللہ قبول کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے اللہ ضرور قبول فرماتا ہے ۔ دعا کا معنی ہے مانگنا، اللہ سے مانگنے کو دعا کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے کو استغاثہ اور مدد چاہنا کہتے ہیں ۔ قائل کی مراد یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگو تمہاری مراد پوری ہو سکتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کا لفظ نہیں بولنا چاہیے بلکہ آپ سے مانگنے کا لفظ بولنا چاہیے، قائل آئندہ احتیاط کرے۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات