بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2381 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟
سوال ایک شخص نے قضائے عمری نمازیں جتنی اس کے ذمہ تھیں اس سے زائد پڑھ لی تو کیا اس نے غلط کیا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں، غلط نہیں کیا بلکہ اچھا کیا، اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے نزدیک یقینی طور پر بری الذمہ ہو جائے گا ۔ ہاں اگر سب قضا نمازیں ادا ہوگئیں اس کے بعد بھی وہ احتیاطاً ادا کر رہا ہے تو فرض اعتقاد کرکے ادا نہ کرے ۔ بلکہ یوں نیت کرے کہ میرے ذمہ فرض فجر، ظہر، عصر، مغرب یا عشاء نماز بھول چوک سے رہ گئی تو میں نے اس فرض نماز کی ادائیگی کی نیت کی، اس نیت سے نماز پڑھے تاکہ یہ لازم نہ آئے کہ جو چیز فرض نہیں ہے اس کو یہ فرض اعتقاد کرے ۔ کیونکہ غیر فرض کو فرض تسلیم کرنا ناجائز ہے لہذا یہ احتیاط سے نیت کرنا چاہیے ۔ و اللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ