بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2358 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک ایسی مسجد جس میں فجر کی نماز نہیں ہوتی ہے اس میں نماز جمعہ درست ہے یا نہیں؟
الجوابـــــــــــــــــ نماز جمعہ اس مسجد میں بھی درست ہے ۔ جمعہ صحیح ہونے کے لئے کتب شریعت میں جو شرائط بیان کیے گئے ہیں ان میں یہ شرط کہیں اور کسی مذہب میں نہیں کہ اس مسجد میں فجر کی نماز بھی ہوتی ہو جہاں جمعہ صحیح ہے ۔ وہاں ضرورت ہو تو کشادہ میدان میں بھی جمعہ کی نماز پڑھی جا سکتی ہے اگرچہ وہاں بھی فجر کی نماز یا کوئی بھی نماز نہ پڑھی گئی ہو ۔ ہاں جو بھی مسجد محلہ میں ہوں اس کو آباد کرنا اہل محلہ پر لازم ہے کہ فجر کی نماز یا دیگر اوقات کی نماز اس میں ضرور پڑھیں تاکہ مسجد آباد رہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” انما یعمر مساجد اللہ من آمن باللہ والیوم الآخر ” مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ