بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2244 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم
سوال : زید کا گورنمنٹ بینک میں کھاتا ہے، زید کو بینک سے زائد رقم سود کی شکل میں ملتی ہے ، وہ رقم زید دینی مدرسوں اور غریبوں کو دے سکتاہے کہ نہیں برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ حکومت ہند کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں بلکہ ایک پاک اور حلال مال ہے ، اسے سود سمجھنا غلط ہے ۔ اس لیے وہ زائد رقم ضرور لے لیں اور اس سے دینی مدارس اور محتاج مسلمانوں کی مدد کریں ، یہ افضل ہے ۔ اور چاہیں تو اپنے نجی امور میں بھی صرف کرسکتے ہیں ۔ مزید دلیل و تحقیق کے لیے ” جدید بینک کاری اور اسلام ” کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ