بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2243 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شرعی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت
سوال : بعض امراض سرجری میں ڈاکٹر چہرے کے بال صاف کرنےکی لازمی ہدایات دیتے ہیں ۔ جدید فن جراحت کے مطابق بال تراشنا یا داڑھی منڈوانا یا چہرے کی سرجری یا منہ کی سرجری میں ضرورت ہو سکتی ہے اس لیے بغیر بال صاف کیے سرجری کرنا ممکن نہیں ۔ چہرے کے بعض جراثیمی بیماریوں مثلا collilitsl, boik ,Abscess وغیرہ میں بھی چہرے کا بال صاف کرنا پڑسکتا ہے ۔ تو کیا اس طرح کی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ چہرے یا گال یا منہ کی سرجری اگر جمال کے لیے نہ ہو، بلکہ کسی بیماری مثلا کینسر وغیرہ کے لیے ہو اور بغیر داڑھی منڈائے یہ سرجری ممکن نہ ہو یا انفیکشن کا صحیح اندیشہ ہو تو بوجہ مجبوری بقدر ضرورت داڑھی کے بال صاف کرنے کی اجازت ہوگی ۔ داڑھی منڈانا بالاتفاق خلاف سنت ہے مگر ناجائز و گناہ بھی ہے یا نہیں یہ اختلافی مسئلہ ہے ۔ ہمارے فقہائے احناف اسے ناجائز و گناہ قرار دیتے ہیں ۔ اور فقہائے شافعیہ مباح ۔ اس اختلاف کے باعث حرمت میں یک گونہ تخفیف پہلے ہی سے تھی اور اب مجبوری کی صورت میں واضح حرج کے لیے حرمت ہی ختم ہوگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ