بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2239 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مہر کے لیے مالِ متقوم (یعنی وہ چیز جس کا قیمت والا مال ہونا شرع اور عرف میں مسلم ہو) کا ہونا ضروری ہے، اور اس کی کم از کم مقدار دس درہم ہے . نکاح میں شوہر کے حفظِ قرآن نماز اور درود شریف یا اس طرح کی کوئی چیز کو مہر بنانا درست نہیں ہے، اگر ان مذکورہ چیزوں کو بطورِ مہر مقرر کرکے نکاح کیا گیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور شوہر کے ذمے مہرِ مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ یعنی لڑکی کے خاندان میں اس طرح کی لڑکی کا جو مہر متعارف ہے، وہ ادا کرنا ہوگا۔ فتاوی شامی میں ہے: "(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال.” (كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:201) واللہ ورسولہ اعلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ