دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2239
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,455
سوال (Question):
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مہر کے لیے مالِ متقوم (یعنی وہ چیز جس کا قیمت والا مال ہونا شرع اور عرف میں مسلم ہو) کا ہونا ضروری ہے، اور اس کی کم از کم مقدار دس درہم ہے . نکاح میں شوہر کے حفظِ قرآن نماز اور درود شریف یا اس طرح کی کوئی چیز کو مہر بنانا درست نہیں ہے، اگر ان مذکورہ چیزوں کو بطورِ مہر مقرر کرکے نکاح کیا گیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور شوہر کے ذمے مہرِ مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ یعنی لڑکی کے خاندان میں اس طرح کی لڑکی کا جو مہر متعارف ہے، وہ ادا کرنا ہوگا۔ فتاوی شامی میں ہے: “(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال.” (كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:201) واللہ ورسولہ اعلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat