بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2199 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد کے تمام دروازے بند کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
سوال : جاڑے کی وجہ سے اگر مسجد کے اندر نماز پڑھنے کی صورت میں تمام دروازوں کو بند کر کے صرف درمیانی دروازہ کھول کر نماز پڑھی جائے تو کوئی کراہت تو نہیں ہے؟ اور باہر صحن میں نماز پڑھی جائے تو اندر کے دروازے کھولنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ جبکہ ایک دروازہ کھول کر پڑھی جائے تو کراہت نہیں اس لئے کہ فقہائے کرام نے مسجد کا دروازہ بند کرنے کو جو مکروہ فرمایا اس کی علت مشابہ منع من الصلاۃ ہے اور صورت مذکورہ منع من الصلاۃ کے مشابہ نہیں. ھدایہ، فتح القدیر بحر الرائق اور رد المحتار میں ہے کرہ غلق باب المسجد لانہ یشبہ المنع من الصلاۃ ١ھ اور اس علت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ باہر صحن میں نماز پڑھنے کی صورت میں اندر کا دروازہ کھول رکھنا ضروری نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوز از فتاوی فیض الرسول جلد اول مکروہات نماز کا بیان
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ