صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2163 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

سودی کاروبار میں لکھنے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,367

سوال (Question):

سودی کاروبار میں لکھنے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سودی کاروبار میں لکھنے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے ؟

سوال : منشی لوگ جو کہ کچہری میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے اور وہ سود کے کاغذات دیکھتے ہیں کیا ان کو بھی سود کا کاغذ لکھنے میں وہی گناہ ہے جو کہ سود خور کو ہوگا ؟بینواتوجروا الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب بےشک سودی کاغذات لکھنے والے پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا کے سود خور پر ہے اور جس طرح سود کا لینا دینا حرام ہے یوں ہی سودی کاغذات کا لکھنا بھی حرام ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے “لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء “ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔ فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٢٢١ ۔ ھذاماعندی والعلم عنداللہ تعالیٰ وسولہ الا علیٰ جل وعلا صلی المولیٰ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ: مفتی محمد الیاس خاں سالک غفرلہ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat