بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2099 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟
سوال : زید اور خالد نے اپنے لڑکے اور لڑکی کی شادی طے کی. جب لڑکی سے اجازت لینے گئے تو لڑکی نے اپنا دین مہر ایک سو پینتیس روپے دس آنہ بتایا. جب لڑکے سے ایجاب و قبول کرایا گیا تو لڑکے نے انکار کر دیا. اس کے بعد زید اور خالد نے آپس میں طے کرکے مبلغ 35 روپے ساڑھے ١٠ آنہ دین مہر پر نکاح پڑھوایا لڑکی کو اس کی کوئی خبر نہیں وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ ایک سو پینتیس روپے دس آنہ پر ہی نکاح پڑھایا گیا ہے ایسی صورت میں جب کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہیں تو نکاح ہوا کہ نہیں؟ شرع کے مطابق جیسا حکم ہو صادر فرمایا جائے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں نکاح فضولی ہوا یعنی جس وقت لڑکی کو کو 35 روپے دس آنہ مہر پر نکاح ہونے کا علم ہوا اس وقت اگر لڑکی نے اس نکاح کو نامنظور کر دیا تو نکاح باطل ہوگیا ۔ اور اگر منظور کرلیا تو ہو گیا. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب کتبـــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 682
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ