بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2097 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفرہ میں وہ رقم جائز ہے اس کا لینا جائز ہے وہ شرعا سود نہیں کہ سود کے لیے مال کا معصوم ہونا شرط ہے ۔ طحاوی علی الدر اور شامی میں ہے ” شرط بعصمۃ البدلین ” اور ہندوستان کے تمام کفار حربی ہیں اور حربی کا مال حصہ معصوم نہیں بلکہ وہ مباح ہے بشرطیکہ ان کی رضا سے ہو ۔ بدعہدی نہ ہو ۔ لہذا وہ بینک جو خالص غیرمسلموں کے ہیں ان میں روپیہ جمع کرنے پر جو زیادتی ملتی ہے اس کا لینا جائز ہے کہ وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں اور لینے میں اپنی عزت اور آبرو کے لیے کوئی خطرہ بھی نہیں ہے وہ رقم کسی کے سود کہہ دینے سے سود نہ ہوگی اسے اپنے ہر جائز کام میں استعمال کر سکتا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ