بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2089 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : (1)نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) جس نے اپنی بیوی ہندہ کا مہر ادا نہیں کیا اور نہ بخشوایا مگر اس سے مجامعت کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بعض لوگ ہمارے یہاں ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز بتاتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) نماز پڑھانا خالص عبادت ہے اور کسی عبادت پر اجرت لینا جائز نہیں. لیکن جس شخص کو امام مقرر کر دیا جائے تو اس کو امامت کے سلسلے میں پابندی وقت کی تنخواہ لینا قطعاً جائز ہے. (٢) ہمارے ملک ہندوستان میں عموما مہر مطلق کا رواج ہے جس کا نچوڑ یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت یا شوہر کے طلاق دینے پر اس مہر کے اصول کرنے کا حق ہے. لہذا اگر کوئی شخص بغیر مہر ادا کئے یا بغیر معاف کرائے اپنی بیوی سے مجامعت یعنی ہمبستری کرتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے. جن لوگوں نے نماز پڑھنا نا جائز قرار دیا ہے وہ شریعت طاہرہ کے احکام سے جاھل ہیں ان کے ناجائز کہنے کا کوئی اعتبار نہیں . واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجــــــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 269
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ