لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا عورت اپنے شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا عورت اپنے شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے ؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ خاوند عورت کا نام لے کر پکارے یا عورت خاوند کا نام لے کر پکارے تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ عیب نہیں ہے، البتہ چونکہ نام لے کر آواز دینے میں ایک قسم کی شانِ خلاف ادب پائی جاتی ہے، اس لیے زوجہ (عورت ) کے لیے مکروہ ہے کہ اپنے خاوند کا نام لے کر اس کو آواز دے․․․“ ویکرہ أن یدعو الرجل وأن تدعو المرأة زوجہا باسمہ (الدر المختار مع الشامي) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات