بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1971 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حالت نفاس میں عورت کنویں میں گر کر مر گئی تو کتنا پانی نکالا جائے گا؟
سوال : ایک عورت حالت نفاس میں کنویں میں گر کر مر گئی مرنے کے بعد نکال دی گئی ایسی صورت میں کنویں کا پانی کس مقدار میں نکالا جائے جس سے کنواں پاک ہوجائے اور کنویں کا پانی بوجہ سوتا یکدم نکالنا دشوار ہے تو کس طریقے سے نکالا جائے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں کل پانی نکالا جائے ۔ اور اس قسم کے کنویں کے پانی نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پانی کی گہرائی کسی لکڑی یا رسی سے صحیح طور پر ناپ لی جائے چند آدمی بہت پھرتی سے سو ڈول نکالیں پھر پانی ناپیں جتنا کم ہو اسی حساب سے پانی نکالے کنواں پاک ہوجائے گا آئے گا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی بدر الدین احمد قادری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ