بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1952 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو کیا حکم ہے مقتدی کی نماز ہوئی یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔ سائل:غلام سرور چتراوی جھارکھنڈ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو مقتدی کی نماز ہوگئی لیکن مکروہ تنزیہی ہوئی۔ بہار شریعت میں ہے: اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لیے کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے ۔ (حوالہ ج۱ ح۴ ص۷۱۰ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبـــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ