دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1952
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,435
سوال (Question):
مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو کیا حکم ہے مقتدی کی نماز ہوئی یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔ سائل:غلام سرور چتراوی جھارکھنڈ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو مقتدی کی نماز ہوگئی لیکن مکروہ تنزیہی ہوئی۔ بہار شریعت میں ہے: اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لیے کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے ۔ (حوالہ ج۱ ح۴ ص۷۱۰ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبـــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat