بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1876 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لاعلمی میں دھات کا زیور پہنے تو گنہگار ہوگی یا نہیں؟
سوال : جن عورتوں کو علم نہ ہو کہ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھات کے زیورات پہننا منع ہے وہ پہنے تو کیا گنہگار ہوں گی؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ شریعت میں جہالت عذر نہیں. حدیث شریف میں ہے "طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے. اس حدیث شریف کے تحت علامہ مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علم سے بقدر ضرورت مسائل شرعیہ مراد ہیں لہذا روزے، نماز کے مسائل ضروریہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے. حیض ونفاس کے ضروری مسائل ہر عورت پر، تجارت کے مسائل پر تاجر پر حج کے مسائل حج کو جانے والے پر فرض عین ہیں. ١ھ. (مراءۃ المناجیح جلد ١ صفحہ 202) لہذا ہر شخص کو اتنا علم ضروری ہے کہ کم از کم ضروریات زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز کے بارے میں یہ جان سکے کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے اس لیے نہ جانا عذر نہیں ہے. سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات پہن کر جو نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ سب مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئیں ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے درمختار باب صفۃ الصلاۃ میں ہے"کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ” کہ ہر نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا ادا کرنا واجب ہے (جلد ایک دفعہ 457) لہذا سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات استعمال کرنے والی عورتیں ضرور گنہگار ہیں وہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس قسم کے زیورات کے استعمال سے پرہیز کریں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز احمد برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ