دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1348
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,546
سوال (Question):
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
زید کا انتقال ہوا اور اپنے پیچھے دو لڑکیاں اور چار لڑکے چھوڑے شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟ المستفتی:- (مفتی) منظور احمد نعیمی بارہ مولہ کشمیر الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ما یقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین زید کی جائداد کے کل 10 حصے کئے جائیں گے، 8 حصے چار لڑکوں کو دیں، ہر ایک لڑکے کو دو دو حصہ ملے گا اور باقی دو حصہ میں ہر ایک لڑکی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ لقولہ تعالی “يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين”( سورہ نساء ، آیت نمبر: ۱۱) -واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم علیمیہ رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat