لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نمازی کامنہ قبلہ سے٤٥ڈگری پھرگیا تو؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نمازی کامنہ قبلہ سے٤٥ڈگری پھرگیا تو؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ نمازی کا سینہ حالت نماز میں اگر ٤٥ ڈگری تک قبلہ سے پھر جائے تو نماز ہوگی یانہیں ؟ ایک امام صاحب نے اپنے خطبہ جمعہ میں اعلان کیا کہ نمازی کا سینہ مصلے پر کھڑے ہونے کے بعد 45 ڈگری قبلہ سے پھر جائے تو بھی نماز ہوجائے گی ۔ امام صاحب کے اس بیان سے مصلیوں میں بےچینی ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔ المستفتی ۔ سگ بارگاہ اشرف جمال احمد اشرفی دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا ۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی کہ آفاقی کا قبلہ جہت کعبہ ہے جو ٩٠ ڈگری پر مشتمل ہے اس لئے کہ ایک دائرہ میں ٣٦٠ ڈگری ہوتی ہے اور سمتیں کل چار ہیں اور ٣٦٠ ڈگری کو ٤ پر تقسیم کرنے سے ٩٠ حاصل ہوگا، لہذا ایک سمت ٩٠ ڈگری پر مشتمل ہوئی۔ تو کعبہ جس طرف ہے وہ سمت بھی ٩٠ ڈگری پر مشتمل ہے، عین کعبہ سے دائیں طرف ٤٥ درجے تک اوراسی طرح بائیں طرف بھی ٤٥ درجے تک سمت قبلہ  کہلائے گا۔ بہار شریعت میں ہے: "جہت کعبہ کو مونھ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ منہ کی سطح  کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو، تو اگر قبلہ سے کچھ انحراف ہے، مگر منہ کا کوئی جز کعبہ کے مواجہہ میں ہے، نماز ہو جائے گی، اس کی مقدار ٤٥ درجہ رکھی گئی ہے، تو اگر ٤٥ درجہ سے زائد انحراف ہے، استقبال نہ پایا گیا، نماز نہ ہوئی، مثلاً :ا، ب، ایک خط ہے اس پر ہ، ح، عمود ہے اور فرض کرو کہ کعبۂ معظمہ عین نقطہ ح کے محاذی ہے، دونوں قائمے ا، ہ، ح اور ح، ہ ب کی تنصیف کرتے ہوئے خطوط ہ، ر، ہ، ح خطوط کھینچے، تو یہ زاویہ ٤٥ ، ٤٥ درجے کے ہوئے کہ قائمہ ٩٠ درجے ہے، اب جو شخص مقام ہ پر کھڑا ہے، اگر نقطۂ ح کی طرف مونھ کرے، تو اگرعین کعبہ کو مونھ ہے اور اگر دہنے بائیں ر،یا ح کی طرف جھکے، تو جب تک ر ،ح یا ح، ح کے اندر ہے، جہت کعبہ میں ہے اور جب ر سے بڑھ کر ا ،یا ح سے گزر کر ب کی طرف کچھ بھی قریب ہوگا، تو اب جہت سے نکل گیا، نماز نہ ہوگی۔‘‘ اھ (بھار شریعت، ج١ ، حصہ٣، ص٤٨٧، ٤٨٨، نماز کی شرطوں کا بیان ، مکتبۃ المدینہ،کراچی) اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ’’ علمائے کرام کا حکم تو یہ ہے کہ جہت سے بالکل خروج ہو ،تو نماز فاسد اور حدود جہت میں بلاکراہت جائز کہ آفاقی کا قبلہ ہی جہت ہے، نہ کہ اصابت عین ۔بدائع امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاسانی، پھر حلیہ امام ابن امیر الحاج حلبی میں ہے:’’قبلتہ حالۃ البعد جھۃالکعبۃ وھی المحاریب لاعین الکعبۃ‘‘ (کعبہ سے دوری کی صورت میں جہتِ کعبہ ہی قبلہ ہے اور وہ محرابِ مسجد ہے، نہ کہ عین قبلہ۔) جامع الرموز میں امام زندویسی سے ہے: ” الجهة قبلة كالعين ” ( جہت قبلہ عین کعبہ کی طرح ہے) ہاں حتی الوسع اصابت عین سے قرب مستحب۔ …خیریہ میں فرمایا: ’’ھوافضل بلاریب ولامین‘‘ (وہ بغیر کسی شبہ کے افضل ہے۔)…اور ترک مستحب ،مستلزم کراہت تنزیہ بھی نہیں ،کراہت تحریم تو بڑی چیز ، بحر الرائق باب العیدین میں ہے:’’  لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃاذلابدلھامن دلیل خاص ‘‘ (ترکِ مستحب سے کراہت لازم نہیں آتی، کیونکہ اس کے ثبوت کے لیے خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے) اھ (فتاوی رضویہ جدید، ملخصاً ج٦ ، ص٦٤ ، کتاب الصلاۃ ، باب القبلۃ ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات