لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دیوالی کی مٹھائی لینا اور اس کا کھانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دیوالی کی مٹھائی لینا اور اس کا کھانا کیسا ہے ؟

Diwali Ki Mithai Lena Aur Uska Khana Kaisa Hai

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی غیر مسلم دیوالی میں کسی مسلمان کو مٹھائی دے تو کیا اس کا کھانا جائز ہے؟ سائل: محمد عرفان امبیڈکر نگر الجواب بعون الملک الوھاب ديوالي كي مٹھائی لینا ممنوع کہ یہ ایک طرح سے ان کے تہوار میں شرکت ہے لیکن کھانا جائز کہ یہاں کفار کا مال سوائے غدر ان کی رضا سے جس طرح حاصل ہومباح ہے "الہدایۃ کتاب البیوع باب الربا میں ہے: "ان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیہ غدر”اھ اعلی حضرت رضي الله تعالي عنه تحرير فرماتے ہیں: "سوائے غدرو بدعہدی کے کہ مطلقا ہرکافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہومسلمان کےلئے حلال ہے”اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١٧ ص: ٣٤۸-٣٤۹) فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم کتاب العقائد صفحہ ۵۹۸ پر ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں ہے: "یہ مٹھائی پاک ہے اس لئےاس کا کھانا جائز لیکن خاص ان کے تیوہار کے موقع پر لینا ممنوع ہے کہ یہ ایک طرح سے ان کے تیوہار میں شرکت ہے ۔ دوسرے دنوں میں لینے میں کوئی حرج نہیں.”اھ کتبہ:الفقیر الی ربه القدیر غلام مصطفی اسمٰعیلی میرانی خادم:جامعہ فیضان اشرف رٸیس العلوم شرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ٢٧ ربیع النور شریف ١٤٤٢ھ
دیوالی میں جو بونس دیا جاتا ہے اس کو لینا کیسا ہے؟
ہولی اور دیوالی پر مبارک باد پیش کرنا کیسا ہے؟

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات