بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1246 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
میت کو غسل دیا جائے تو میت کے پاؤں کس طرف کریں
ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب میت کو غسل دیتے وقت میت کے پاؤں جنوب کی طرف کریں یا شمال کی طرف یا جس طرف آسانی ہو اسی طرف کر سکتے ہیں کیونکہ اصح قول کے مطابق اس بارے میں کوئی خاص قید نہیں لگائی ہے کہ کس طرف کرنے ہیں- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ میت کو نہلانے کے لئے جو تختے پر لٹائیں تو شرقاََ غرباً لٹائیں کہ پاؤں قبلہ کو ہوں یا جنوباً شمالاً کہ داہنی کروٹ قبلہ کو ہو؟ تو آپ نے جواباً تحریر فرمایا، کہ سب طرح درست ہے، مذہبِ اصح میں اس باب میں کوئی تعیین و قید نہیں، جو صورت میسر ہو اُس پر عمل کریں- (فتاویٰ رضویہ جلد9، صفحہ91- رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-1246
تصدیق شدہ