لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

محمد عبداللہ لکھنا پڑھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

محمد عبداللہ لکھنا پڑھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس کے بارے میں کہ عبداللہ نام سے پہلے محمد لکھنا کیسا ہے ۔ یعنی محمد عبداللہ لکھنا پڑھنا کیسا ہے ۔ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں المستفتی :محمد آل رسول اتردیناج پور الجـــــوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب   عبداللہ نام سے پہلے "محمد” یعنی محمد عبداللہ لکھنا پڑھنا جائز و درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں اس لئے "محمد” رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے منتخب فرمایا ۔ اور عبداللہ نام بھی حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ہے ۔لہٰذا بچے کا نام محمد عبداللہ رکھنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر بھی ہے ۔ در مختار میں ہے کہ ” (و من کان اسمہ محمد لا بأس بأن یکنی أبا القاسم) لأن قولہ۔ علیہ الصلاۃ والسلام۔ ” سموا باسمی ولا تکنوا بکنیتی” قد نسخ لأن علیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کنی ابنہ محمد بن الحنفیۃ أبا القاسم ” اھ اور ردالمحتار میں ہے کہ” (قولہ: أحب الأسماء الخ) ھذا لفظ حدیث رواہ مسلم أبو داؤد والترمذی وغیرھم عن ابن عمر مرفوعا قال المناوی: و عبداللہ أفضل مطلقا حتی من عبد الرحمن و أفضلھا بعدھما محمد ثم أحمد ثم ابراھیم ” اھ
جس کا نام عبد الرحمٰن ہو اس کو صرف رحمٰن کہنا شرعاً کیسا ہے?
( ج:9/ص:597/598/ کتاب الحظر والاباحۃ/ باب الاستبراء وغیرہ/ دار عالم الکتب) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــہ:حضرت مفتی اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ، 6۔۔۔ذوالقعدہ۔۔۔۔1444ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات