بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

شہید کی نمازِ جنازہ اور غسل و کفن کے احکام

جو شخص میدانِ جنگ میں شہید ہو جائے کیا اس کا غسل اور جنازہ ہوتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جو شخص میدان جنگ میں کفار سے لڑتے ہوئے یا ظلماً قتل ہو جائے (معرکہ کا شہید)، تو اسے غسل نہیں دیا جاتا اور نہ اس کے خون آلود کپڑے اتارے جاتے ہیں۔ اسی حالت میں اس کی نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جاتا ہے۔ نماز جنازہ ہر حال میں فرضِ کفایہ ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: احکام میت

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات