لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

١٣ /١٤ شعبان المعظم کو عرفہ کہنے اور منانے کی حقیقت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

١٣ /١٤ شعبان المعظم کو عرفہ کہنے اور منانے کی حقیقت

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ ١٣ شعبان کو لوگ عرفہ مناتے ہیں ارو میں اس دن کو لوگ عرفہ کہتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟ جب کہ عرفہ ٩ ذی الحجہ کو کہتے ہیں؟ سائل : محمد اشفاق نوری پونہ مہاراشٹر الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ١٣ /١٤ شعبان المعظم کو لوگ سال رواں کے مُردوں کے نام سے ایصال ثواب کرتے ہیں اور شرینی، حلوہ وملیدہ وغیرہ بنا کر فاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اسی کو سماجی اصطلاح میں عرفہ منانا یا یوم عرفہ کہتے ہیں.شرع میں اس کی کچھ اصل نہیں یہ موضوع ہے ـــــــــــــــــــــ شرینی حلوہ ودیگر اشیاء کا انتظام کرنا ،فاتحہ خوانی و قرآن خوانی کرنا صدقہ و خیرات کرنا اور مرحومین کے نام سے ایصال ثواب کرنا بیشک جائز و حلال ہے اور یہ امر مستحب و مستحسن ہے ،اور یہ کسی دن بھی کیےُ جا سکتے ہیں کوئی ضروری نہیں ہے کہ ١٣ /١٤ شعبان ہی کو کیےُ جائیں مذکورہ تاریخ کی کوئی روایت نظر فقیرسے نہیں گزری ۔ البتہ اس کے علاوہ کچھ دیگر ایام کا ذکر احادیث کریمہ میں وارد ہے جس کا ان دنوں میں بجا لانا بیحد مفید ہے ،حدیث پاک میں ہے،، اذا کان یوم العید و یوم العشر و یوم الجمعة الاولی من شھر رجب ولیلة النصف من شعبان و لیلة الجمعة یخرج الاموات من قبورھم و یقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی ھذہ الیلة بصدقة ولو بلقمة من خبز فانا محتاجون الیہا فان لم یجدوا شیُا یرجعون الحسرة : ترجمہ ،، جب عید کا دن ہوتا ہے یا عاشوراء کادن یا رجب کے مہینہ کا پہلا جمعہ یا شب براُت (پندرہویں شعبان کی رات )یا جمعہ کی رات تو میت اپنے قبروں سے نکلتے ہیں اور اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہو کراہل خانہ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم پر اس رات یا دن میں صدقہ کی ذریعہ رحم کرو اگر چہ روٹی کے ایک ہی لقمہ سے ہو کیونکہ ہم اس کے محتاج ہیں پس اگر وہ اہل خانہ کی طرف سے اپنے لئے کچھ نہیں پاتے ہیں تو حسرت و مایوسی کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں ،،رواہ عبداللہ ابن مسعود ” لہذا اس حدیث کریمہ کی روشنی میں معلوم ہوا کہ لوگوں کو پندرہویں شعبان کی شب اور دن میں بکثرت صدقہ و خیرات ،فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی وغیرہ اہتمام کر کے مرحومین کے نام سے ایصال ثواب کرنا چاہیےُ ،علاوہ ازیں دیگر ایام میں بھی کیا جا سکتا ہے شرعاً کچھ مضاںُقہ نہیں… مگر ١٣ /١٤ شعبان یوم عرفہ کا نام دینا یا اسی دن شرینی فاتحہ کو لازم سمجھنا صحیح نہیں ہے. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات