بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-433 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
خودکشی کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، لیکن اس فعل سے انسان دائرہ اسلام سے خارج (کافر) نہیں ہوتا۔ اس لیے خودکشی کرنے والے مسلمان کو غسل بھی دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ البتہ بڑے علماء اور معززین کو عبرت کے لیے ایسے شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ