دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #342
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں زکوٰۃ کی رقم لگانا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: اگست 12, 2026
0
12,525
سوال (Question):
کیا زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کی دیوار بنوا سکتے ہیں یا مدرسے کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے کسی مستحق انسان کو مال کا مالک بنانا (تملیک) شرط ہے۔ چونکہ مسجد یا مدرسے کی عمارت انسان نہیں، اس لیے زکوٰۃ کی رقم براہِ راست تعمیرات، سڑک، یا ہسپتال بنانے میں لگانا ناجائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ اس کے لیے عطیات اور نفلی صدقات استعمال کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
Read Fatwa
4
فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
4
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
32
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
22
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
48