دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #342
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں زکوٰۃ کی رقم لگانا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
12,523
سوال (Question):
کیا زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کی دیوار بنوا سکتے ہیں یا مدرسے کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے کسی مستحق انسان کو مال کا مالک بنانا (تملیک) شرط ہے۔ چونکہ مسجد یا مدرسے کی عمارت انسان نہیں، اس لیے زکوٰۃ کی رقم براہِ راست تعمیرات، سڑک، یا ہسپتال بنانے میں لگانا ناجائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ اس کے لیے عطیات اور نفلی صدقات استعمال کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
17
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
9
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
26
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5165
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5060