بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

اولیاء کے نام کی نذر نیاز اور منت مانگنا

کیا مزاروں پر جا کر بزرگوں کے نام کی دیگ چڑھانا یا منت مانگنا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عبادت اور نذر (منت) خالص اللہ کا حق ہے۔ کسی بزرگ، ولی یا نبی کے نام پر (غیر اللہ کے نام پر) منت مانگنا یا جانور ذبح کرنا شرکِ اکبر اور قطعی حرام ہے، اور وہ کھانا مردار ہے۔ البتہ اگر منت خالص اللہ کے نام کی ہو، اور کھانا غریبوں کو کھلا کر اس کا ایصالِ ثواب کسی بزرگ کو کیا جائے، تو یہ درست ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات