لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
18 ستمبر 2025

منگنی توڑنے پر جرمانہ لینا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ایک لڑکی کی منگنی ہوئی تو لڑکے کی رضا مندی کے ساتھ ہوئی ہے اب وہ لڑکا انکار کر رہا ہے کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی ہے تو اب لڑکی والوں کی پوری برادری والوں کے سامنے بےعزتی ہے تو اب کیا وہ لڑکے والوں پر کوئی معاوضہ یعنی جرمانہ ڈال سکتے ہیں ؟ اس کی شرعی حثیت سے رہنمائی فرمائیں دیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

منگنی توڑنے پر جرمانہ لینا کیسا ہے ؟

منگنی کا مطلب ہے کہ شادی کی نسبت کرنا یعنی لڑکے اور لڑکی کو شادی کے لیے منسوب کر دینا آجکل منگنی کی رسم یوں ادا کی جاتی ہے کہ باقاعدہ اس کی تقریب ہوتی ہے جس میں یہ طے پایا جاتا ہے کہ ہم ان دونوں کی شادی کریں گے فقط منگنی سے وہ میاں بیوی نہیں بن جاتے بلکہ اجنبی ہی رہتے ہیں، اور چونکہ اس میں یہ عہد بھی ہوجاتا ہے کہ ہم اپنی لڑکی(لڑکا) کا نکاح کریں گے تو اب بلا عذرشرعی ان دونوں کا نکاح نہ کرنا یعنی منگنی ختم کردینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عہد توڑنے کے مترادف ہے اور یہ متعدد لوگوں کی دل آزاری کا سبب بھی بنے گا، لیکن منگنی توڑنے پر جرمانہ عائد کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مالی جرمانہ لینا جائز نہیں، یہ تعزیر بالمال ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا جائز نہیں ہوتا- یہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے کے مترادف ہے-

ارشادِ باری تعالیٰ ہے– وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ- (ترحمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ- (سورۃ البقرہ آیت ١۸۸) اور وعدہ خلافی کرنے کے متعلق (بخاری شریف میں ہے) کہ جو شخص کسی مسلمان کا عہد توڑے، اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کی فرض عبادت مقبول ہوگی اور نہ نفل- (صحیح البخاری باب مدینہ کے کرم کا بیان، رقم 1870) (مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جو مسلمان دوسرے مسلمان کے ذمہ یا اس کی دی ہوئی امان توڑے یا اس کے کئے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے اس پر لعنت ہے- (مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف، جلد4، 209) (جرمانہ کے متعلق شرح کنز الدقائق میں ہے- التعزیر بالمال کان ابتداء الاسلام، ثم نسخ- (یعنی: مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا پھر منسوخ ہوگیا- (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد5، صفحہ68) 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-684 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام