بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

حسد اور کینہ کا شرعی علاج اور وعید

حسد کسے کہتے ہیں اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے، حسد کہلاتا ہے۔ حدیث کے مطابق حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ اس کا علاج یہ ہے کہ جس شخص سے حسد ہو، اس کے حق میں اللہ سے برکت کی دعا کی جائے، اور جب اس کی نعمت کا ذکر آئے تو ‘ماشاءاللہ’ کہا جائے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات