بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-479 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے، حسد کہلاتا ہے۔ حدیث کے مطابق حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ اس کا علاج یہ ہے کہ جس شخص سے حسد ہو، اس کے حق میں اللہ سے برکت کی دعا کی جائے، اور جب اس کی نعمت کا ذکر آئے تو ‘ماشاءاللہ’ کہا جائے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ