بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-473 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دیور، جیٹھ یا شوہر کا کزن شرعاً بالکل نامحرم ہیں اور ان سے پردہ کرنا دیگر اجنبی مردوں سے زیادہ ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دیور کو موت (فتنے کی جڑ) قرار دیا ہے۔ مشترکہ گھر میں چہرہ چھپانا اگرچہ مشکل ہو، مگر بڑا دوپٹہ یا چادر اوڑھنا، بے تکلفی سے بات نہ کرنا، اور اکیلے ایک کمرے میں بیٹھنے سے بچنا فرض ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ