بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

چوری، کرپشن اور رشوت خوری کا شرعی وبال

رشوت لینے دینے اور سرکاری خزانے سے چوری (کرپشن) کرنے پر کیا وعید ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حدیث کے واضح الفاظ ہیں: ‘رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں’۔ اسی طرح چوری اور غبن کرنا مالِ حرام ہے۔ حرام کمائی سے پلا ہوا جسم جنت میں نہیں جائے گا اور ایسی کمائی سے نہ صدقہ قبول ہوتا ہے نہ دعائیں۔ ان گناہوں کی معافی مال واپس کرنے سے مشروط ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات