بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-356 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حدیث کے واضح الفاظ ہیں: ‘رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں’۔ اسی طرح چوری اور غبن کرنا مالِ حرام ہے۔ حرام کمائی سے پلا ہوا جسم جنت میں نہیں جائے گا اور ایسی کمائی سے نہ صدقہ قبول ہوتا ہے نہ دعائیں۔ ان گناہوں کی معافی مال واپس کرنے سے مشروط ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ