لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

چوری، کرپشن اور رشوت خوری کا شرعی وبال

رشوت لینے دینے اور سرکاری خزانے سے چوری (کرپشن) کرنے پر کیا وعید ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حدیث کے واضح الفاظ ہیں: ‘رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں’۔ اسی طرح چوری اور غبن کرنا مالِ حرام ہے۔ حرام کمائی سے پلا ہوا جسم جنت میں نہیں جائے گا اور ایسی کمائی سے نہ صدقہ قبول ہوتا ہے نہ دعائیں۔ ان گناہوں کی معافی مال واپس کرنے سے مشروط ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-356 تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

متفرقات