بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

عورت کا بلند آواز سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا

کیا عورت گھر میں بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کر سکتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورت کی آواز بھی پردے میں داخل ہے۔ اگر گھر میں صرف محرم مرد یا عورتیں موجود ہوں تو بلند آواز سے تلاوت کرنا جائز ہے۔ لیکن اگر نامحرم مردوں کے سننے کا اندیشہ ہو، یا گھر کی کھڑکیاں کھلی ہوں جس سے آواز باہر جا سکتی ہو، تو عورت کے لیے اتنی بلند آواز سے تلاوت کرنا جس سے نامحرم سنیں، شرعاً منع ہے۔ ایسی صورت میں آہستہ آواز سے پڑھے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات