بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-436 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت کی آواز بھی پردے میں داخل ہے۔ اگر گھر میں صرف محرم مرد یا عورتیں موجود ہوں تو بلند آواز سے تلاوت کرنا جائز ہے۔ لیکن اگر نامحرم مردوں کے سننے کا اندیشہ ہو، یا گھر کی کھڑکیاں کھلی ہوں جس سے آواز باہر جا سکتی ہو، تو عورت کے لیے اتنی بلند آواز سے تلاوت کرنا جس سے نامحرم سنیں، شرعاً منع ہے۔ ایسی صورت میں آہستہ آواز سے پڑھے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ