دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #358
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مرنے کے بعد آنکھوں کا عطیہ (Eye Donation)
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: اگست 12, 2026
0
9,911
سوال (Question):
کیا مرنے سے پہلے وصیت کی جا سکتی ہے کہ میری آنکھیں کسی نابینا کو عطیہ کر دی جائیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پاک و ہند کے جمہور مفتیانِ کرام (احناف) کے نزدیک انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے، اس لیے جسمانی اعضاء (جیسے آنکھیں یا گردے) کا عطیہ کرنا انسانیت کی توہین اور ناجائز ہے، اور ایسی وصیت پر عمل کرنا باطل ہے۔ عرب علماء اسے مخصوص حالات میں جائز کہتے ہیں، مگر احتیاط ناجائز ہونے میں ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
Read Fatwa
3
فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
3
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
31
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
21
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
46