دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #358
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مرنے کے بعد آنکھوں کا عطیہ (Eye Donation)
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
9,909
سوال (Question):
کیا مرنے سے پہلے وصیت کی جا سکتی ہے کہ میری آنکھیں کسی نابینا کو عطیہ کر دی جائیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پاک و ہند کے جمہور مفتیانِ کرام (احناف) کے نزدیک انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے، اس لیے جسمانی اعضاء (جیسے آنکھیں یا گردے) کا عطیہ کرنا انسانیت کی توہین اور ناجائز ہے، اور ایسی وصیت پر عمل کرنا باطل ہے۔ عرب علماء اسے مخصوص حالات میں جائز کہتے ہیں، مگر احتیاط ناجائز ہونے میں ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
17
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
9
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
26
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5165
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5060