بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-584 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
یہ مجھ پر حرام ہے کہنے سے قسم ہوگا ؟
مفتی محمد سیف علی الفیضی۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع اسلام مسئلہ ذیل میں اگر کوئی شخص اس طرح کہے کی قسم ہے اگر اج کے بعد میں اس کو کھایا تو آج سے یہ مجھ پر حرام ہے تو کیا قسم ہو جائے گی اب وہ اس چیز کو نہیں کھا سکتا اس بارے میں رہنمائی فرما دیں آپ کی بہت مہربانی ہوگی جزاک اللہ خیرا بسم الله الرحمن الرحيمالجواب بعون الملك الوهاب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔قسم ہو جائے گی۔ حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی صاحب قدس سرہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں "جوشخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کے کہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہو گی کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اس کو کون حرام کر سکے مگر اس کے برتنے سے کفارہ لازم آئیگا یعنی یہ بھی قسم ہے” (ج:٢ ح:٩ ص:٢٠) لہذا شخص مذکور اگر اس چیزکو کھائے گا تو کفارہ دینا پڑے گا۔ والله تعالى اعلم بالصواب۔ كتبہ :مفتی محمد سیف علی الفیضی ٤محرم الحرام ١٤٤٥ مطابق ٢٣جولائي٢٠٢٣
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ