دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2247
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,342
سوال (Question):
ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ آپ کی بارگاہ میں عرض ہیں کہ ہیٹر گیس والا ہو یا بجلی والا ہو نمازی کے سامنے ہو تو کیا حکم ہے نماز کا ۔ المستفتی سگ رضا سید گل قادری سنی بریلوی وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ درست ہے کیونکہ مسجد میں عموماََ گیس کے ہیٹر ہوتے ہیں, جن میں ایک جالی لگی ہوتی ہے اور وہ جالی آگ کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہے, لیکن وہاں نہ تو انگارے ہوتے ہیں اور نہ ہی بھڑکتی ہوئی آگ, لہذا اگر نمازی کے سامنے اس قسم کا چلتا ہوا ہیٹرموجود ہو تو اس میـں کراہت نہیـــــں. کیونکہ مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے اس کی پوجا نہیـــــں کرتے, البتہ. بھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یا چولہا وغیرہ سامنے ہو , تو یہ مکروہ ہے . کیونکہ مجوسی اس کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے سامنے نماز پڑھنے میں مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے. اسی طرح کے ( فتاوٰی رضویہ شریف, جدید, جلد ۲۴ , ص ۶۱۹) پر ہے. واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاج پـــوری منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ.
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat