دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1003
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ہیوی ڈپازٹ کا حکم از حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,995
سوال (Question):
ہیوی ڈپازٹ کا حکم از حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہیوی ڈپازٹ کا حکم از حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی
حضرت ہیوی ڈپازٹ پہ روم لینا کیسا ہے چاہے وہ مفت یا کم کرایہ پہ ہوجیسے کسی نےتین لاکھ دے کر روم لے لیا پھر اس کو کرایہ پہ دے کر کے نفع کمانا کیسا ہے. (مولانا) علی احمد علیمی ۔ مسجد غوثیہ وسئی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب کسی مکان یا دکان کو ہیوی ڈپازٹ دے کر بلا کرایہ یا رائج کرایہ سے کم کرایہ دینا شرعا جائز نہیں،کہ ڈپازٹ کی رقم آجر کے پاس قرض ہوتی ہے،اب قرض دینے والا اگر اس مکان یا دوکان کا بالکل کرایہ نہ دے یا معروف کرایہ سے کم کرایہ دے تو یہ قرض پر نفع لینا ہوا جو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے. چناں چہ حدیث شریف میں ہے :کل قرض جر منفعۃ فھو ربا “ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے ۔ ( نصب الرایہ ، جلد ٤، صفحہ ٦٠ ، مطبوعہ مؤسسۃ الریان ، بیروت) رہی بات مستاجر کا کرایہ کے مکان ودکان کو آگے کرایہ پر دینے کی تو یہ جائز ہے چند شرائط کے ساتھ : ١-جتنا کرایہ خود دے رہا ہو اتنے یا اتنے سے کم ہی پر دوسرے کو کرایہ پر دے،اگر زیادہ پر دیا تو جو کچھ زائد ہے اسے صدقہ کردے، ہاں اگر مکان میں اصلاح کی ہو، کچھ کام کرایا ہو مثلاً پلاسٹر وغیرہ کرایایا کرایہ کی جنس بدل گئی مثلاً روپے پر لیا تھا اب اشرفی پر دیا تو زاٸد رقم کا صدقہ کرنا ضروری نہیں، اس کے لیے جائز ہے. ٢-کسی ایسے کو نہ دے جو اس مکان یا دکان کو نقصان پہنچائے. درمختار مع ردالمحتار میں ہے: وله أن يؤاجرها من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبه ذلك مما يضر بالبناء ويوهنه هكذا في السراج الوهاج” (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ج ٦ ص ٢٩) اسی میں ہے:” ولہ ( للمستاجر) السکنی بنفسہ و اسکان غیرہ لو آجر باکثر تصدق بالفضل” یعنی کرایہ پر مکان لینے والا اپنے کرایہ سے زیادہ کرایہ لیا تو زاٸد رقم صدقہ کرے۔ (ج ۲ ص ۳۰۴) الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری میں ہے: ”وَاِنْ اَجَّرَھَا بِاَکْثَرَ مِمَّا اسْتَاْجَرَھَا جَازَ ، اِلَّا اَنَّہ اِذَا کَانَتِ الاُجْرَۃُ الثَّانِیَۃُ مِنْ جِنْسِ الْاُوْلٰی لَا یَطِیْبُ لَہ الزِّیَادَۃُ وَیَتَصَدَّقُ بِھَا، وَاِنْ کَانَتْ مِنْ خِلَافِ جِنْسِھَا طَابَتْ لَہ الزِّیَادَۃُ، فَاِنْ کَانَ زَادَ فِی الدَّارِ شَیْئاً کَمَا لَوْ حَفَرَ فِیْھَا بِئْراً اَوْطَیَّنَہَا او اَصْلَحَ اَبْوَابَھَا اَوْ شَیْئاً مِّنْ حِیْطَانِھَا طَابَتْ لَہُ الزِّیَادَۃُ“ (الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری،کتاب الاجارۃ،١/ ٣٠٨-٣٠٩) بہار شریعت میں ہے : بہارِ شریعت میں ہے:”مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دے دیا، اگر اتنے ہی کرایہ پر دیا ہے جتنے میں خود لیا تھا یا کم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جو کچھ زیادہ ہے اسے صدقہ کردے ہاں اگر مکان میں اصلاح کی ہو اسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یا کرایہ کی جنس بدل گئی مثلاً لیا تھا روپے پر دیا ہو اشرفی پر، اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑو دے کر مکان کو صاف کرلینا یہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے، اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاً پلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔“ (بہارِ شریعت،ج ٣ص١٢٤) وَاللہُ اَعْلَمُ بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٦شوال ١٤٤٤ / ١٧ مئی ٢٠٢٣ التصحیح:محمد نظام الدین قادری استاذ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat