لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ہیوی ڈپازٹ کا حکم از حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہیوی ڈپازٹ کا حکم از حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی

حضرت ہیوی ڈپازٹ پہ روم لینا کیسا ہے چاہے وہ مفت یا کم کرایہ پہ ہوجیسے کسی نےتین لاکھ دے کر روم لے لیا پھر اس کو کرایہ پہ دے کر کے نفع کمانا کیسا ہے. (مولانا) علی احمد علیمی ۔ مسجد غوثیہ وسئی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب کسی مکان یا دکان کو ہیوی ڈپازٹ دے کر بلا کرایہ یا رائج کرایہ سے کم کرایہ دینا شرعا جائز نہیں،کہ ڈپازٹ کی رقم آجر کے پاس قرض ہوتی ہے،اب قرض دینے والا اگر اس مکان یا دوکان کا بالکل کرایہ نہ دے یا معروف کرایہ سے کم کرایہ دے تو یہ قرض پر نفع لینا ہوا جو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے. چناں چہ حدیث شریف میں ہے :کل قرض جر منفعۃ فھو ربا “ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے ۔ ( نصب الرایہ ، جلد ٤، صفحہ ٦٠ ، مطبوعہ مؤسسۃ الریان ، بیروت) رہی بات مستاجر کا کرایہ کے مکان ودکان کو آگے کرایہ پر دینے کی تو یہ جائز ہے چند شرائط کے ساتھ : ١-جتنا کرایہ خود دے رہا ہو اتنے یا اتنے سے کم ہی پر دوسرے کو کرایہ پر دے،اگر زیادہ پر دیا تو جو کچھ زائد ہے اسے صدقہ کردے، ہاں اگر مکان میں اصلاح کی ہو، کچھ کام کرایا ہو مثلاً پلاسٹر وغیرہ کرایایا کرایہ کی جنس بدل گئی مثلاً روپے پر لیا تھا اب اشرفی پر دیا تو زاٸد رقم کا صدقہ کرنا ضروری نہیں، اس کے لیے جائز ہے. ٢-کسی ایسے کو نہ دے جو اس مکان یا دکان کو نقصان پہنچائے. درمختار مع ردالمحتار میں ہے: وله أن يؤاجرها من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبه ذلك مما يضر بالبناء ويوهنه هكذا في السراج الوهاج” (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ج ٦ ص ٢٩) اسی میں ہے:” ولہ ( للمستاجر) السکنی بنفسہ و اسکان غیرہ لو آجر باکثر تصدق بالفضل” یعنی کرایہ پر مکان لینے والا اپنے کرایہ سے زیادہ کرایہ لیا تو زاٸد رقم صدقہ کرے۔ (ج ۲ ص ۳۰۴) الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری میں ہے: ”وَاِنْ اَجَّرَھَا بِاَکْثَرَ مِمَّا اسْتَاْجَرَھَا جَازَ ، اِلَّا اَنَّہ اِذَا کَانَتِ الاُجْرَۃُ الثَّانِیَۃُ مِنْ جِنْسِ الْاُوْلٰی لَا یَطِیْبُ لَہ الزِّیَادَۃُ وَیَتَصَدَّقُ بِھَا، وَاِنْ کَانَتْ مِنْ خِلَافِ جِنْسِھَا طَابَتْ لَہ الزِّیَادَۃُ، فَاِنْ کَانَ زَادَ فِی الدَّارِ شَیْئاً کَمَا لَوْ حَفَرَ فِیْھَا بِئْراً اَوْطَیَّنَہَا او اَصْلَحَ اَبْوَابَھَا اَوْ شَیْئاً مِّنْ حِیْطَانِھَا طَابَتْ لَہُ الزِّیَادَۃُ“ (الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری،کتاب الاجارۃ،١/ ٣٠٨-٣٠٩) بہار شریعت میں ہے : بہارِ شریعت میں ہے:”مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دے دیا، اگر اتنے ہی کرایہ پر دیا ہے جتنے میں خود لیا تھا یا کم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جو کچھ زیادہ ہے اسے صدقہ کردے ہاں اگر مکان میں اصلاح کی ہو اسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یا کرایہ کی جنس بدل گئی مثلاً لیا تھا روپے پر دیا ہو اشرفی پر، اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑو دے کر مکان کو صاف کرلینا یہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے، اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاً پلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔“ (بہارِ شریعت،ج ٣ص١٢٤) وَاللہُ اَعْلَمُ بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٦شوال ١٤٤٤ / ١٧ مئی ٢٠٢٣ التصحیح:محمد نظام الدین قادری استاذ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات