لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟

مسئلہ:- از: حسنین رضا ، نانپارہ، بہرائچ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کچھ دشمنوں نے زید پر سحر کرایا جس کے نتیجے میں زید بیمار ہوگیا اور زید کا دماغ خراب ہو گیا ۔ زید نے گالی گلوج بکنا مارنا پیٹنا ، بھاگنا ، کبھی ہنسنا کبھی رونا اختیار کیا ۔ ان حرکات کے پیش نظر اس کو کمرہ میں بند رکھا جاتا ، کبھی باندھ دیا جاتا . لکھنؤ کے نوری اسپتال سے اس کا دماغی علاج ہوا ہے ۔ دماغ پر بجلی کی شاٹین بھی لگائی گئی ہیں۔ کبھی حالت پرسکون ہو جاتی ہے ، کبھی سابق حال ہوجاتا ہے ،زید کے دشمنوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ۔ بیوی کا بیان ہے کہ محض افترا اور بہتان ہے ۔ زید بھی انکار کرتا ہے ۔ صورت مستفسرہ یہ ہے کہ حالات متذکرہ بالا کی روشنی میں اگر بالفرض زید نے طلاق دی ہے تو عند الشرع طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ جبکہ ڈاکٹر کا یہ فیصلہ ہے کہ مریض کے دماغ کی چول درست نہیں علاج جاری رہے گا بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں دشمنوں کے یہ مشہور کر دینے سے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے وقوع طلاق کا حکم نہیں کریں گے ۔ جب زید کی یہ حالت ہے کہ کبھی وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا ہے اور کبھی پرسکون ہو جاتا ہے تو اگر بالفرض زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور شرعی طور پر اس کا ثبوت ہو تو ایسی صورت میں طلاق پڑ جانے کا حکم کریں گے ۔ اور اگر اس کے ہوش و حواس درست نہیں تھے۔ عقل زائل ہوگئی تھی اور ایسی حالت میں طلاق دینے کا ثبوت ہو تو وقوع طلاق کا حکم نہیں۔ حدیث شریف میں ہے :” كل طلاق جائز الا طلاق المعتوة والمغلوب علي عقله . " اور دوسری حدیث شریف میں ہے :” رفع القلم عن ثلثة عن النائم حتي يستيقظ وعن الصبي حتي يبلغ وعن المعتوة حتي يعقل . اھ۔ (مشكوة شريف صفحه ٢٨٤) اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ ۳۵۳ میں ہے :” يقع طلاق كل زوج اذا كان بالغا عاقلا.” پھر چند سطر بعد ہے:” لا يقع طلاق الصبي والمجنون والمدهوش هكذا في فتح القدير وكذلك المعتوة لا يقع طلاقه أيضا وهذا اذا كان في حالة العتة وإما في حالة الافاقة فالصحيح أنه واقع كذا في الجوهرة النيرة . اھ ملخصا” واللہ تعالیٰ اعلم۔ الجواب الصحیح: مفتی جلال الدین أحمد الامجدی ۔۔ کتبہ : محمد ابرار احمد امجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات