دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2069
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ہوائی جہاز اگر فضاء میں اڑ رہا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,071
سوال (Question):
ہوائی جہاز اگر فضاء میں اڑ رہا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہوائی جہاز اگر فضاء میں اڑ رہا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ اگر ہوائی جہاز اڈا پر کھڑا ہو تو اس میں ہر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر اڑ رہا ہو اور مسافر کو غالب گمان ہو کے اڈے پر اترنے تک اتنا وقت نہ بچے گا کہ جس میں نماز پڑھ سکے گا تو ہوائی جہاز اڑنے ہی کی حالت میں نماز پڑھے جیسے کی کشتی اور پانی کے جہاز میں. اسے ٹرین پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا ڈرائیور اسٹیشن کے علاوہ بھی اسے روک سکتا ہے اس لیے چلتی ہوئی ٹرین میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ ضروری ہے اور ہوائی جہاز کا ڈرائیور اسے ہر جگہ اتارتا نہیں تو یہ مانع من وجہ العباد نہیں اس لئے اس میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ نہیں ہے. شامی جلد اول صفحہ 562 پر ہے ” قولہ لا یعید ای فی سقوط الشرائط اوالارکان بعذر سماوی بخلاف ما لو کان من قبل العبد ١ھ. اور ہوائی جہاز میں جو مانع پایا جاتا ہے وہ سبب سماوی کے حکم ہے کہ ڈرائیور کو ہر جگہ روکنے کا کا اختیار نہیں. ہاں اگر کوئی ایسا ہوائی جہاز ہو کہ جس کا ڈرائیور اسے کہیں بھی اتار سکتا ہو تو اس پر پڑھی گئی نماز کا اعادہ ضروری ہے. اس مسئلہ کی تفصیل نزھۃ القاری شرح بخاری جلد دوم صفحہ 375 پر ملاحظہ ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی شاہد علی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat