لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟

سوال : زید کہتا ہے کہ حدیث شریف میں ہے” لا ربوا بین المسلم والحربی فی دار الحرب” یعنی دارالحرب میں مسلمان اور کافروں کے درمیان سود نہیں اور ہندوستان دارالاسلام ہے دارالحرب نہیں لہذا یہاں پر مسلمان اور حربی کافروں کے درمیان سود ہے تو زید کا قول صحیح ہے کہ نہیں ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ زید کا قول صحیح نہیں ۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں دارالحرب کی قید یا تو احترازی نہیں ہے اتفاقی ہے کہ اس زمانہ میں کافروں میں سے صرف ذمی اور مستامن دارالاسلام میں رہتے تھے ۔ حربی دارالحرب میں ہی رہتے تھے اس لیے کہ بغیر امان لیے اگر وہ دارالاسلام میں داخل ہوتا تو اس کی جان و مال محفوظ نہ ہو رہتی جیسا کہ ردالمحتار جلد سوم صفحہ ٢٤٨ میں ہے "لو دخل دارنا بلا امان کان ومامعہ فیأ " اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فی دارالحرب فرمادیا نہ اس لیے کہ حربی کافر کبھی درالاسلام میں رہے تو مسلمان اور اس کے درمیان سود ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ۔ یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضاعفا۔ یعنی اے ایمان والو! دونا دون سود نہ کھاؤ (پ٤ع٥) تو اس آیت کریمہ میں دو نا دون کی قید احترازی نہیں ہے کہ دونا دون سے کچھ کم و بیش سود کھانا جائز ہے بلکہ اس زمانہ میں لوگ عام طور پر دو نا دون سود کھاتے تھے اس لیے فرمایا کہ دونا دون سود نہ کھاؤ ۔ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس آیت کریمہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں ۔ انما قیدبہ اجراء علی عادتھم والا فھ حرام مطلقا غیر مقید بمثل ھذاالقید (تفسیرات احمدیہ صفحہ١٤٤) اور یا تو حدیث شریف میں فی دار الحرب کی قید مستامن کو نکالنے کے لئے ہے یعنی جب حربی مستامن ہو جائے تو اس کے اور مسلمان کے درمیان سود ہے اس لئے کہ امان کے سبب اس کا مال مباح نہیں رہ جاتا کہ عقودفاسدہ کے ذریعے مسلمان اس کو حاصل کر سکے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریرفرماتے ہیں کہ محل اخذ کا دارالحرب ہونا ضروری نہیں۔ مسئلہ حربی میں قید دارالحرب ذکر فرمائی اس کا منشا اخراج مستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا ۔ رد المحتار میں ہے قولہ ثمنہ ای فی دار الحرب قیدبہ لا نہ لو دخل دارنا بامان فباع منہ مسلم درھما بدرھمین لا یجوز التفاقاعن المسکین ۔ ھدایہ میں ہے لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ صار محظور البعقدالا مان اھ ملخصا ۔ فتح القدیر میں مبسوط سے ہے اطلاق النصوص فی المال المحظور واتما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق العدرفاذالم یاخذعدرافیای طریق اخذہ حل بعد کو نہ بر ضابخلاف المستامن منھم عندنا لان مالہ صار محظور ابا لا مان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا ۔اھ تلخیصا (فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ ٨٨ ) وھوا تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ کتبـــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات