دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1452
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,590
سوال (Question):
گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
مسلہ:گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ المستفتی: قاضی اطیعواالحق عثمانی،سعد اللہ نگر،بلرام پور(یوپی)الجوابـــــــــــــ
جس جانور کا گلا پھول آیا اگر وہ اس قدر پھولا ہے کے اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آتی ھے تو یہ عیب ہے اور اس جانور کی قربانی ناجائز ہے اور قیمت کم نہ ہو تو قربانی جائز ہے مگر کراھت کے ساتھ – اور عیب اس کو کہتے ہیں جس کے سبب تاجروں کی نگاہ میں جانور کی قیمت کم ہو جائے – ہدایہ میں ہے”کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھوعیب ،،(باب خیار العیب ج ٣ ص ٢٣ ۔ ردالمحتار میں ہے “واعلم ان الکل لا یخلو عن عیب والمستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاہر فما ذکر ھھنا جوز مع الکراھۃ کما فی المضمرات ۔ (کتاب الاضحیتہ ج ٦ ص ٣٢٣۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: محمد انوارالحق قادری ١٠ / رجب ال مرجب ١٤٣١ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat