بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1452 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
مسلہ:گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ المستفتی: قاضی اطیعواالحق عثمانی،سعد اللہ نگر،بلرام پور(یوپی)الجوابـــــــــــــ
جس جانور کا گلا پھول آیا اگر وہ اس قدر پھولا ہے کے اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آتی ھے تو یہ عیب ہے اور اس جانور کی قربانی ناجائز ہے اور قیمت کم نہ ہو تو قربانی جائز ہے مگر کراھت کے ساتھ – اور عیب اس کو کہتے ہیں جس کے سبب تاجروں کی نگاہ میں جانور کی قیمت کم ہو جائے – ہدایہ میں ہے”کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھوعیب ،،(باب خیار العیب ج ٣ ص ٢٣ ۔ ردالمحتار میں ہے "واعلم ان الکل لا یخلو عن عیب والمستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاہر فما ذکر ھھنا جوز مع الکراھۃ کما فی المضمرات ۔ (کتاب الاضحیتہ ج ٦ ص ٣٢٣۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: محمد انوارالحق قادری ١٠ / رجب ال مرجب ١٤٣١ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ