دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2527
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,012
سوال (Question):
گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس میں دو صورتیں ہیں اور فنڈ یعنی جی پی ایف میں جو روپے حکومت تنخواہ سے ہر ماہ کاٹ کاٹ کر جمع کرتی ہے اس میں دو طرح کے روپے شامل کرتی ہے، ایک وہ روپے جو اپنے ملازم کی تنخواہ سے کاٹ کر جمع کرتی ہے یہ اصل رقم ہے اور دوسرے وہ روپے جو حکومت اس پر اپنی طرف سے نفع کے طور پر شامل کرتی رہتی ہے ۔ تو جو رقم تنخواہ سے کٹ کر جمع ہوئی یا ہو رہی ہے یا کوئی بونس ملا ہے ایسے تمام رقم پر سال بسال زکوۃ واجب ہے ۔ رہ گیا نفع کا مسئلہ تو جب نفع کی پوری رقم قبضے میں آ جائے تو اس سال کے مال نصاب کے ساتھ اسے جوڑ کر اس کی زکوۃ دیں ۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ نفع پر زکوۃ کے وجوب وعدم وجوب کی بنیاد اس امر پر ہے کہ کھاتے میں اس کا اندراج شرعا قبضہ ہے یا نہیں. اصل مذہب کی بنا پر تحقیق یہی ہے کہ وہ قبضہ نہیں ہے اس لیے قبضہ سے پہلے اس کے زکاۃ واجب نہ ہوگی، لیکن حالات بدل رہے ہیں لوگ اپنے طور پر اس اندراج کو ہی قبضہ کے لیے کافی ہے سمجھتے ہیں ممکن ہے آگے چل کر حالات اس قدر بدل جائیں کہ عوام و خواص اس کے ساتھ قبضہ جیسامعاملہ کرنے لگیں تو اس وقت حکم بدل سکتا ہے فی الحال یہی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat