دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2245
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,130
سوال (Question):
گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔۔۔ مسئلہ اگر مسجد میں سرکاری گورمینٹ کی طرف سے روپے ملے تو وہ روپے امام کودینا کیساہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔۔ محمد حیدر علی اتردیناج پور (بنگال) وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ سرکاری گورمینٹ کی طرف سے اگر مسجد میں پیسہ آتا ہوں تو وہ پیسہ مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے لیکن اگر یہ رقم صرف مسجد کے نام سے ہی ملتا ہے تو اس رقم سے امام کو تنخواہ دینا جائز نہیں ۔ اس رقم کو مسجد میں ہی خرچ کرسکتے ہیں” البتہ اگر سرکاری گورمینٹ کے پیسے امام صاحب کے لیے بھی آتا ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیـــــــں ۔ فتاویٰ فقیہ ملت ج 2 ص 160 پر ہے کہ” گورمینٹ کا پیسہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتاتو اسے مسجد وغیرہ بنانے میں خرچ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو: ایساہی فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 460 پرہے). اور آگے فتاوٰی فقیہ ملت، میـں ہے کہ اگر خاص تعمیر کے لئے چندہ ہوا ہے تو اس چندہ کی رقم سے امام و مئوذن کو تنخواہ دینا جائز نہیں ” (فتاویٰ فقیہ ملت، ج 2 ص 166) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat