لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

جھوٹ بولنے کی شرعی وعید اور سزا

مذاق میں جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جھوٹ تمام گناہوں کی جڑ اور منافق کی نشانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘مومن سب کچھ ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا’۔ مذاق میں لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنے والے کے لیے آپ ﷺ نے تین بار ‘ہلاکت ہے’ کے الفاظ فرمائے ہیں۔ جھوٹ بولنے سے انسان پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ صرف صلح کروانے یا جنگ کے دوران حکمتِ عملی کے تحت جھوٹ بولنے کی رخصت دی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات