بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-321 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
طلاق والی عورت (جس کا نفقہ شوہر پر ہو) کا عدت میں گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ بیوہ کا نفقہ چونکہ ختم ہو جاتا ہے، اس لیے اگر اس کے پاس اخراجات نہ ہوں تو وہ دن کے وقت کمانے کے لیے نکل سکتی ہے لیکن رات گھر پر ہی گزارے گی۔ بلا ضرورت بازار یا تقریبات میں جانا حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ