لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ اصول فقہ کا یہ ضابطہ ہے کہ ” ہر وہ شرط جو بیع (خریدوفروخت) کے خلاف ہو اور اس میں عاقدین ( خریدنے اور بیچنے والے)میں سے کسی کا نفع ہو، وہ شرط بیع کو فاسد کردے گی ۔ اگر وہ شرط متعارف ہو اور اہل زمانہ کا اس پر تعامل ہو تو وہ بیع وعقد جائز رہے گا ۔ کیونکہ عرف وتعامل ، قیاس پر حجت ہے ، ان کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جائے گا۔” علامہ برہان الدین مرغینانی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں: كل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين يفسده الا أن يكون متعارفا ؛ لأن العرف قاض علي القياس .” اصل مذہب کے مطابق اور مذکورہ ضابطہ کے تحت” گاڑی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔ ” کیونکہ یہ شرط عقد بیع کے خلاف ہے اور اس سے عاقدین میں سے خریدار کو نفع پہنچتا ہے۔ لیکن اب عرف و تعامل کی وجہ سے اس شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت جائز ہے ۔ کیوں کہ اس قسم کی خریدوفروخت پر اب لوگوں کا تعامل ہوچکا ہے اور عرف عام میں اس طریق بیع کو غلط نہیں سمجھا جاتا ہے۔ لہذا جس طرح گھڑی، انوائٹر، واشنگ مشین، فریج ، شوٹ کیس اور کولر وغیرہ مختلف قسم کی جدید مشینوں اور نئی ایجادات میں گارنٹی یا وارنٹی کی شرط اصل مذہب کے لحاظ سے ناجائز اور اب تعمل ناس کی وجہ سے جائز ہے۔ اسی طرح گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت درست ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: ” یا وہ شرط (بیع کی) ایسی ہے ، جس پر مسلمانوں کا عام طور پر عمل درآمد ہے۔ جیسے گھڑیوں میں آج کل سال دو سال کی گرنٹی ہوا کرتی ہے کہ اس مدت میں خراب ہوگئی تو درستی کا ذمہ بائع(دوکاندار)۔ ایسی شرط بھی ( بیع میں ) جائز ہے ۔” کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات