بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2143 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ : کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ المستفتی : محمد مشاہد القادری مصباحی خطیب وامام کچی جامع مسجد ایولہ ناسک۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ : بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیکڑے کی تجارت کرنا ناجائز ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : ” ولایجوز بیع ھوام الارض.ولا ھوام البحر کالضفدع والسرطان” اھ ملتقطا یعنی :نہ حشرات الارض کی بیع جائز اور نہ ہی (مچھلی کے علاوہ) سمندری جانور جیسے مینڈک اور کیکڑے کی بیع جائز ہے۔ (شرح فتح القدیر: ج: 7، ص: 111، کتاب البیوع، باب السلم، مسائل منسورۃ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) بہار شریعت میں ہے : ” مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا وغیرہ کی بیع ناجائز ہے ” اھ ملخصا (بہار شریعت : ج: 2، ح: 11، ص: 810، بیع کے متفرق مسائل ) والله تعالٰی اعلم . عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٨ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ