لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیکڑا کھانااور خنزیر کے جوٹھے پانی سے وضو کرنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیکڑا کھانااور خنزیر کے جوٹھے پانی سے وضو کرنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہیکہ کیکڑا کھانا کیسا ہے اور خنزیر کے جو ٹھے پانی سے وضو ہوگا یا نہیں ؟ سائل: محمد ساحل رضا خان کٹیہار بہار مقیم حال سعودی حرم شریف۔ الجواب بعون الملک الوھاب کیکڑا کھانا حرام ہے اور خنزیر کا جوٹھا پانی ناپاک ہے اس سے وضو نہیں ہوسکتا۔ البنایہ شرح الھدایہ میں ہے: "ويكره أكل ما سوى السمك من دواب البحر عندنا كالسرطان” اھ (ج١١، ص٦٠٤، کتاب الذبائح ،فصل فیما یحل الخ، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان) یعنی ہمارے نزدیک سمندری جانوروں میں سے مچھلی کے علاوہ کسی جانور مثلا :کیکڑے کا کھانا مکروہ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرماتے ہیں: "سرطان ( یعنی کیکڑا ) کھاناحرام ہے” اھ (فتاوی رضویہ، ج٢٤، ص٢٠٨، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور) بہار شریعت میں ہے: "سوئر کتا شیر چیتا بھیڑیا ہاتھی گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جوٹھا ناپاک ہے” اھ (حصہ دوم ص٣٤٢، آدمی اور جانوروں کے جوٹھے کابیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ٧ شوال المکرم ١٤٤٤ھ مطابق ٢٨ اپریل ٢٠٢٣ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات