بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2455 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا کافروں سے جھوٹ بول سکتے ہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــ کافر ہو یا مشرک جھوٹ بولنا کسی کے ساتھ جائز نہیں، اس میں مومن اور کافر کی کوئی تخصیص نہیں، ہاں کچھ صورتیں ہیں جہاں جھوٹ بولنا جائز ہے جیسے ایک صورت مجبوری کی ہے ایک آدمی دوسرے کی جان ناحق لینے جا رہا ہے اور وہ جانتا ہے کہ جھوٹ بولے گا تو اس کی جان بچ جائے گی تو وہاں جھوٹ بول سکتا ہے یہ حکم مسلمان اور غیر مسلم سب کے لئے عام ہے کسی ایک قوم کے ساتھ خاص نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ