دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1503
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟ از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,912
سوال (Question):
کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟ از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں : زید کہتا ہے کہ حضور سرکار دو عالم ﷺ کا علم ممکن التغیر ہے ترجمہ اس کا بیان کرتا ہے اور اس پر اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کا علم بدل دے کیوں کہ ممکن التغیر ہے اس پر بکر کہتا ہے کہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ سرکار کا علم بد ل دے جب اللہ تعالیٰ نے اولین و آخرین کا علم بخش دیا تو بدل دے۔ علماے کرام سے گزارش ہے کہ ایسے شخص کو کیا کہا جائے؟ ممکن التغیر کے معنی بھی تحریر فرمائیں ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ نبی کریم ﷺکا علم ممکن ہے، اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے ۔لیکن قبل تبلیغ نبیﷺ کے علم میں کسی قسم کا تغیر ممکن نہیں حتی کہ نسیان اور بھول بھی ممکن نہیں ورنہ سارا نظام اسلام درہم برہم ہو جائے اور قرآن مجید کی ایک بھی آیت قابل اعتماد نہ رہے۔ البتہ بعد تبلیغ نسیان ممکن ہے اس معنی کر ممکن التغیر ہے مگر اس سے یہ مطلب نکالنا کہ اللہ جب چاہے حضور کا علم بدل دے یعنی علم سے حضور کا سینہ صاف کردے اور معاذ اللہ حضورﷺ جاہل ہو جائیں یہ بالکل باطل ہے اور کھلی ہوئی گم راہی ہے اس معنی کر زید کا قول باطل ہے بکر اسی کا انکار کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ حضور کا علم سلب کردے اورمعاذ اللہ جاہل ہو جائیں ۔ لہٰذا بکر کا قول صحیح ہے اور زید کا قول باطل ہے۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: عبد العزیز عفی عنہ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat