لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال:کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ آٹھ یا دس یا بارہ یا گیارہ یا تیرہ سال کے لڑکے تکبیر پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ دوسرے لوگ ڈاڑھی والے موجود ہوتے ہیں پھر بھی یہ لڑکے ہی پڑھتے ہیں کیایہ درست ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ المستفتی: جمال احمد قادری ممبئ ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ سمجھ دار نابالغ لڑکے کا اقامت اور اذان کہنا اور موذن مقرر کرنا بھی درست ہے۔ہاں! بالغ ہونا افضل ہے اور ناسمجھ بچے کی اذان کا تو شرعاً اعتبار ہی نہیں ہے ۔ لہذا اگر ناسمجھ بچے نے اذان کہی دوبارہ اذان دی جائے اور ناسمجھ بچہ سے اقامت نہ کہلوائی جائے، لیکن اگر ناسمجھ بچے نے اقامت کہہ دی تو دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: "أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ وَلَكِنْ أَذَانُ الْبَالِغِ أَفْضَلُ وَأَذَانُ الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ لَا يَجُوزُ وَيُعَادُ وَكَذَا الْمَجْنُونُ. هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ.” (فتاوی عالم گیری ج١ ص۵۴) علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: "(وَيَجُوزُ) بِلَا كَرَاهَةٍ (أَذَانُ صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ )” (در مختار ج٢ ص۵٩ ) اسی میں ہے: "(وَكَذَا) يُعَادُ (أَذَانُ امْرَأَةٍ وَمَجْنُونٍ وَمَعْتُوهٍ وَسَكْرَانِ وَصَبِيٍّ لَا يَعْقِلُ) لَا إقَامَتُهُمْ لِمَا مَرَّ”۔ (ایضا ص٦١ ) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ: صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ) الْمُرَادُ بِهِ الْعَاقِلُ وَإِنْ لَمْ يُرَاهِقْ كَمَا هُوَ ظَاهِرُ الْبَحْرِ وَغَيْرِهِ، وَقِيلَ يُكْرَهُ لَكِنَّهُ خِلَافُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ كَمَا فِي الْإِمْدَادِ وَغَيْرِهِ، وَعَلَى هَذَا يَصِحُّ تَقْرِيرُهُ فِي وَظِيفَةِ الْأَذَانِ بَحْرٌ.” (رد المحتار مع الدر ج٢ص۵٩) البتہ نابالغ اگرچہ سمجھدار ہو بالغوں کا امام نہیں ہوسکتا، ہاں سمجھ والا نابالغ لڑکا نابالغوں کا امام بھی ہوسکتا ہے۔ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ، بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی اِمامت کر سکتا ہے، اگر سمجھ والا ہو۔” (بہار شریعت ح ٣ ص۵٦۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات